دل پذیر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دل کو لبھانے والا، مرغوب، دل پسند۔ "خواجہ صاحب کے لکھنے کا ڈھنگ بھی دل پذیر تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٣٧٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ فارسی مصدر 'پذیرفتن' سے فعل امر 'پذیر' بطور لاحقۂ فاعل لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٥ء کو "قصۂ بے نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دل کو لبھانے والا، مرغوب، دل پسند۔ "خواجہ صاحب کے لکھنے کا ڈھنگ بھی دل پذیر تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٣٧٦ )